سلیمانیہ مسجد کی تاریخ
سلیمانیہ مسجد استنبول کی ان سات پہاڑیوں میں سے ایک کی چوٹی پر واقع ہے جن پر شہر تعمیر کیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے یہ نہ صرف شہر کی ایک نہایت اہم علامت ہے بلکہ ان مقامات میں سے بھی ایک ہے جو اپنے زائرین کو بہترین مناظر پیش کرتے ہیں۔ اگر بات کی جائے کہ سلیمانیہ مسجد کب تعمیر ہوئی؛ تو یہ 1550 سے 1557 کے درمیان سلطنت عثمانیہ کے سب سے مشہور شاہی معمار، معمار سنان، نے سلطان سلیمان اول کے حکم پر تعمیر کی، جو سلیمان اعظم کے نام سے بھی معروف تھے۔ لیکن سلیمانیہ مسجد صرف عبادت کی جگہ کے طور پر تعمیر نہیں کی گئی تھی۔ سلیمانیہ مسجد ایک وسیع کمپلیکس ہے جس میں کبھی لنگر خانہ، کتب خانہ، مدرسہ، ابتدائی مکتب، سیر و تفریح کے لیے باغ اور بہت کچھ شامل تھا۔ اگرچہ مسجد آج بھی عبادت کے لیے استعمال ہوتی ہے، اس کے بہت سے حصے بند کر دیے گئے ہیں اور سیاحتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جو جگہ کبھی لنگر خانہ تھی، وہ اب Daruzziyaye نامی ایک خوبصورت چھوٹا کیفے ہے، جہاں آپ ایک کپ چائے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
سلیمانیہ مسجد کئی وجوہات کی بنا پر عظیم تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اسے عثمانی دور کے سب سے باصلاحیت معمار نے تعمیر کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں بعض نہایت اہم شخصیات کی قبریں موجود ہیں۔ آپ پوچھتے ہیں کہ سلیمانیہ مسجد میں کون مدفون ہے؟ مسجد کے احاطے میں سلیمان اعظم اور ان کی اہلیہ حرم سلطان کی قبریں (جو پہلے Roxelana کے نام سے معروف تھیں) واقع ہیں۔ یہ مسجد سلطان سلیمان اول کی حکمرانی کے دوران کامیابیوں کی یادگار کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ مثال کے طور پر، مسجد کے چار مینار اس بات کی علامت ہیں کہ سلطنت عثمانیہ کے قیام کے بعد سلیمان اول اس پر حکومت کرنے والے چوتھے سلطان تھے۔
اس شاندار تجربے اور مزید بہت کچھ کے لیے، ابھی اپنا پاس خریدیں! Istanbul PRIME Pass® آپ کے استنبول کے سفر کو ناقابل فراموش تجربہ بنانے کے لیے حاضر ہے!